Thread:
Vote ki Azat(Respect)
Home Page › Forums › Columns-مقالے › Vote ki Azat(Respect)
- This topic has 2 replies, 2 voices, and was last updated 7 years, 1 month ago by
Sohail Ahmed. This post has been viewed 483 times
- AuthorPosts
- December 7, 2018 at 6:03 pm #2
SEMirzaKeymasterOffline- Threads: 245
- Posts: 333
- Total Posts: 578
- Join Date:
May 5, 2018 - Location: Kashmir
Re: Vote ki Azat(Respect)
اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے ہمیں تاریخ کا سہارا لینا ہو گا۔
اگر ہم تاریخِ اسلام کا مطالعہ کریں تو معلوم ہو گا کہ مسلمانوں کو جب بھی کوئی مسئلہ درپیش ہوتا تو اسکے حل کے لیے مسلمانوں کا اجتماع مساجد میں ایک اعلان کے بعد منعقد کیا جاتا تھا ۔ اس اجتماع کے ذریعے مسئلے کے حل پر اجتماعی رائے اور جائزہ لینے کے بعد اکثریت کے فیصلے سےمتفق ہوا جاتا تھا ۔ہمارے دین میں اگر خلیفہ کا انتحاب بھی کیا گیا تو اسی طریقے سے کیا گیا۔اجتماع میں موجود ہر شخص کی رائے پر فرداً فرداً غور کیا جاتا اور پھر اکثریتی رائے پر فیصلہ ہو جاتا۔اس عمل کو اجتہاد کا نام دیا گیا۔
غیر مسلموں کی تاریخ اسکے برعکس ہے۔
قدیم یونانی جو مشرک تھے اور کئی خداؤں پر یقین رکھتے تھے حکومت کرنے اور بنانے کا ایک طریقہ کار بنائے ہوئے تھے جِسے وہ ڈیموکریسی کہتے۔ یہ لوگوں سے ہاں یا ناں میں جواب لینے کا طریقہ تھا جس کی بنیاد پر ایک شخص کو سینیٹر چنا جاتا تھا۔ جب کوئی شخص عوام میں مقبولیت حاصل کر لیتا تو اُس کی مقبولیت کا انداز کرنے کا پیمانہ یہی ڈیموکریسی تھا۔ یاد رہے یہ خالصتاً ایک انتخابی عمل تھا جس میں شخص کے کردار پر کوئی رائے نہیں لی جاتی تھی۔
عیسائی بادشاہتیں ہمیشہ اپنے کنیسہ کی طرف سے حکومتی عمل میں مداخلت سےپریشان رہی ہیں۔ اُس زمانے کے یورپ کی بادشاہتیں اپنے مذہبی پیشوا پوپ کے قائم کردہ چرچ اور پھر مذہبی مداخلت کے ذیعے مقامی بادشاہتوں کے بنانے یا ختم کیے جانےسے بہت زیادہ نالاں تھیں یہاں تک کے ان کےروز مرہ کے کام کاج حتی کہ شادی تک چرچ کی اجازت کے تابع کر دئے گئےتھے اور وہ چرچ سے اجازت لینے سے مشروط تھے ۔ اسی مداخلت کی ضد میں عیسائیوں نے مذہب کو حکومت سے علحدہ کرنےکا سوچا جو کہ ایک طریقہ سے چرچ سے بغاوت تھی۔
عیسائیوں نے حکومت بنانے کا طریقہ یونانیوں سے مستعار لیا اور اسے جمہوریت کا نام دیا جو ان کے بہت کام آیا۔وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اس نظام نے مزید ترقی تو کی لیکن مذہب سے مکمل آزادی اختیار کرنے کے لیے ایک اور شاخ بھی پیدا کر لی اور اُسے سیکولرازم کا نام دیا ۔
انقلابِ فرانس کے بعد جب انگلستان کی بیشتر دنیا پر حکومت کا سورج ڈوبنے لگا تو محکوم علاقوں پر مسلم بادشاہتوں اور ترک نظام ِ خلافت نشانہ بنے۔ آئندہ کے لیے اگر ان آزاد کیے گئے علاقعوں پر استعمار کا تسلط کسی شکل باقی رکھنا تھا تو اُس کے لیے ان ممالک کو مزید چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کر دینےکے بعد آزاد کرنا اور جمہوریت کا فروغ دینے کا فیصلہ تمام استعماری قوتوں نے باہمی مشترکہ ایجنڈے کے تحت کیاجس پر مغرب آج بھی ان نو آزاد ممالک پر طرح طرح کی پابندیاں لگا کراور خوفزدہ کر کے اپنے تسلط تلے رکھے رکھنے کہ در پہ ہے۔
جمہوریت اپنی اصلی شکل میں کسی بھی مغربی ملک میں رائج نہیں ہے جبکہ مغرب ترقی پذیر دنیا بلخصوص مسلم دنیا میں جمہورت کا راگ ہر دم الاپے جانے کے لیے زور دیتا ہے اور اِس کام کے لیے امریکہ ان سب میں سرِ فہرست ہے۔
اسلامی دنیا میں مغربی طرز اور سوچ پر مبنی جمہوریت کیوں پنپ نہ پائی اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اسلامی نظام اور مغربی جمہوریت ایک دوسرے سے باہم مربوط نہیں ہو سکتے کیونکہ یہ دونوں نظام ایک دوسرے سے نظریاتی طور پر متصادم ہیں۔البتہ مغربی جمہوریت میں ایک صقم کی بنا پر مغرب ہماری تقسیم ہم پر ھاوی رکھنے میں ابھی تک کامیاب ہے ۔ وہ صقم مغربی جمہوریت میں انتحاب کا عمل ہے جہاں امیدوار کے کردار کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف حامی اور مخالف ووٹ گنے جاتے ہیں اور جس کی گنتی غالب ہو وہ کامیاب ٹھہرتا ہے۔
اسی صقم کی بنا پر ہمارے معاشرے کے بدعنوان عناصر صرف ووٹ کی طاقت یعنی تعداد سےحکومت کے ایوانوں میں پہنج جاتے ہیں اور پھر وہیں نسل در نسل چپکے رہنے کی کوشش میں سیاسی بساط پر جوڑ توڑ میں لگے رہتے ہیں ۔اس مقصد کے حصول کی خاطروہ اپنے عہدے کے غلط استعمال اور بکاؤ میڈیا کو بطور ڈھنڈورچی رکھ کر اپنی نوجوان نسل کو نااہل الیکشن کمیشن کی مدد سے حکومت میں لا کر مورثی سیاست کو پروان چڑھاتے ہیں۔
موجوہ حالات اور رائج سیاسی تناظر میں دیکھا جائے تو ووٹ صرف ایک گنتی ہے۔ووٹ کی اپنی عزت صرف وہی ہے جو ایک گنتی کی ہو سکتی ہے۔پھر ووٹ اگر برادری سے انسیت، اقربا پروری، دباؤ یا کسی خوف اور لالچ کے ذریعے دیا یا خریدا جائے تو اسکی اپنی قانونی اور اخلاقی حیثیت باقی نہیں رہ جاتی۔
جن صاحب نے “ووٹ کو عزت دو” کو ایک تحریک کی شکل دینے کی ناکام کوشش کی وہ اپنے کردار کی کجی اور بدعنوانی کی وجہ سے اپنے عہدے سے سبکدوش کر دیے گئے۔پاکستان کی اعلی عدالت نے انہیں صادق اور امین نہ ہونا ثابت ہو جانے پر پاکستانی سیاست سے زندگی بھر کے لیے نااہل کر دیا ۔ یہ نعرہ صرف ایک کھوکھلی لفاظی ہے اور اس کے سِوا کچھ بھی نہیں ۔
عزت تو امیدوار کی ہونی چاہیے جس کے احترام میں عوام اپنی رائے سے چنتے ہیں۔یہ عزت انہی لوگوں کے حصے آتی ہے اور پھر برقرار رہتی ہے جو صادق اور امین ہوں۔ جن کے دِل میں عام آدمی کا درد ہو اور وہ عام آدمی کی غربت ، افلاس اور تکلیف کو دور کرنے کے لیے اپنا دن رات ایک کر دے نہ کہ وہ جنہیں اعلی عدالت نے بدعنوان ہونے، صادق اور امین نہ ہونے پر حکومت سے دھتکار دیا ہو اور وہ اب کسی بوڑھی طوائف کی طرح “پھوڑی” بچھائے واویلا کر رہےہوں۔
- 1
- Sohail Ahmed liked this post
December 9, 2018 at 2:12 am #3
Sohail AhmedParticipantOfflineThread Starter- Member
- Threads: 16
- Posts: 64
- Total Posts: 80
- Join Date:
December 2, 2018 - Location: Rodiport
Re: Vote ki Azat(Respect)
Ejaz Bhai
Thank you very much, buhat Information di ap nay, hum jis dor say guzar rahay hai,Masjid main namaz be puri nai ho rahi,
- AuthorPosts
You must be logged in to reply to this topic.

