Thread:
مزارات کی زیارت اور شرک
Home Page › Forums › Islamic Issues-دینی مسائل › مزارات کی زیارت اور شرک
- This topic has 1 reply, 2 voices, and was last updated 7 years, 1 month ago by
SEMirza. This post has been viewed 675 times
- AuthorPosts
- December 11, 2018 at 5:02 am #2
SEMirzaKeymasterOffline- Threads: 245
- Posts: 333
- Total Posts: 578
- Join Date:
May 5, 2018 - Location: Kashmir
Re: مزارات کی زیارت اور شرک
@sohailnice @shahzad63 @masroirbahrain @maliksaab @drjaved
سہیل بھائی
یہ ایک دیرینہ، نہایت اہم اور توجہ طلب مسئلہ عرصہ سے چلا آ رہا ہے اور اِس پر علماءدین بہت کچھ کہہ چکے ہیں۔آگ اُس پر عمل کرنا ہم لوگوں کا کام ہے۔ ملاحضہ فرمایئے۔۔۔۔
شرک کی اقسام
شرک کی چند اقسام ہیں۔ ان میں سے کچھ تو ایسی ہیں جو انسان کو دین اسلام سے خارج کردیتی ہیں اورمشرک اگر توبہ کیے بغیر مرجائے تو اس کا دائمی ٹھکانا جہنم ہوتا ہے۔ شرک کی وہ اقسام درج ذیل ہیں
٭ غیراللہ کو پکارنا۔
٭ غیر اللہ کے لیے
جانور ذبح کرکے اور نذرو نیاز دے کر اس کی خوشنودی حاصل کرنا، مثلاًصاحبِ قبر، جن یا شیاطین کے نام کاجانور ذبح کرنا۔
٭ مُردوں سے خوف کھانا یا جن اور شیاطین سے ڈرنا کہ وہ کوئی نقصان پہنچائیں گے یا بیمار کردیں گے۔
٭ غیر اللہ سے ایسے کام کی حاجت براری اور مصائب دور کرنے کی امید لگانا جس پر اللہ کے سوا کوئی قادر نہیں۔ آج کل قبروں پر اس شرک کا خوب مظاہرہ ہوتا ہے۔
قبروں کی زیارت کا مقصد تو عبرت ہونا چاہیے یا مرنے والوں کے لیے دعا کرنی چاہیے۔ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے
’زُورُوا الْقُبُورَ فَإِنَّھَا تُذَکِّرُکُمُ الْآخِرَۃَ‘
’’قبروں کی زیارت کو جایا کرو، یہ تمھیں آخرت یاد دلاتی ہیں۔‘‘
قبروں کی بار بار زیارت کا یہ حکم مردوں کو ہے۔ عورتوں کے لیے قبروں پر (بکثرت) جانا جائز نہیں کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی بکثرت زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت کی ہے۔‘‘
قبرستان جانے سے وہ خود کسی فتنے میں مبتلا ہوسکتی ہیں یا اوروں کو فتنے میں مبتلا کرسکتی ہیں۔
قبروں کی زیارت سے مقصود قبر والوں سے دعا کرنا، ان سے کسی قسم کی مدد چاہنا، ان کے لیے جانورذبح کرنا، ان سے تبرک حاصل کرنا، ان سے حاجات مانگنا یا ان کے لیے نذرونیاز دینا ہوتو یہ شرک اکبر ہے۔ قبر میں جس کو پکاراجارہا ہے وہ کوئی نبی ہو، ولی ہو یا کوئی بھی نیک ہستی۔ یہ سب مخلوق ہیں اوراللہ کے بندے ہیں، کسی نفع یا نقصان کا کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہلوا دیا ہے:
’’کہہ دو میں اپنے لیے نفع یا نقصان کامالک نہیں ہوں۔‘‘
جب امام الانبیاء خاتم الرسل جیسی ہستی کسی کے لیے نفع اور نقصان کا اختیار نہیں رکھتی تو دوسرے انسان کیسے کسی کو فائدہ یا گزند پہنچا سکتے ہیں۔
آج جاہل لوگ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کے پاس جاکر دعا کرتے ہیں یا آپ سے مدد مانگتے ہیں یا حسین رضی اللہ عنہ یا شیخ بدوی یاعبدالقادر جیلانی وغیرہ کی قبروں پر جاکر جو کچھ کرتے ہیں وہ سب شرک ہے۔کسی قبر کے پاس جاکر نماز پڑھنا یا تلاوت کرنا بدعت ہے۔
قبروں کی زیارت صرف عبرت حاصل کرنے یا اہل قبور کے لیے دعا کرنے کے لیے ہونی چاہیے۔
انتہائی تعجب بلکہ افسوس ہوتا ہے کہ کوئی مسلمان اہل قبور کے پاس جائے، ان سے التجا کرے کہ اس کی دعائیں قبول کی جائیں یا اس کی پریشانیاں دور کی جائیں، حالانکہ وہ جانتا ہے کہ یہ لوگ اپنی قبروں میں بے جان پڑے ہیں۔ کوئی حرکت کرسکتے ہیں نہ قبر کی اندھیری کوٹھڑی سے باہر آسکتے ہیں۔
مزاروں اور قبروں کی بڑی آئو بھگت ہوتی ہے۔ ان پر بڑی عالی شان عمارتیں بنائی جاتی ہیں۔ ان کی خدمت کے لیے خدام اور مجاور مقرر ہوتے ہیں۔ وہ لوگوں کے سامنے تقویٰ، پرہیز گاری اورنفس کشی کامظاہرہ کرتے ہیں۔ لوگوںسے صاحب قبر کے جھوٹے واقعات و کمالات بیان کرتے ہیں اور سادہ لوح عوام کو صحیح اسلامی عقیدے سے پھسلا کر شرک کی راہ پر ڈال دیتے ہیں۔
قتبوں اورمزاروں کی قسمیں
ایسے قبے جو مسلمانوں کے عام قبرستان میں بنائے جاتے ہیں۔ جیسے آپ دیکھتے ہیں کہ قبرستان میں کسی نہ کسی قبر پر شاندار قبہ بنا ہوتا ہے۔
ایسے قبے جو مساجد میں بنائے جاتے ہیں یا کسی قبے پر مسجدبنا دی جاتی ہے۔ بسا اوقات یہ قبہ قبلہ رخ ہوتا ہے یا مسجد کی پچھلی جانب یا دائیں بائیں کسی بھی طرف ہوتا ہے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبے بنانے اوران پر میلہ منعقد کرنے سے منع کیا ہے۔ آپ نے اللہ سے دعا کی تھی کہ میری قبر کو پوجا پاٹ کا مرکز نہ بنایاجائے۔ آپ نے یہود و نصاریٰ پر اللہ کی لعنت کا بھی ذکر کیا جنھوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو عبادت گاہیں بنالیا تھا۔ حدیث کے الفاظ ہیں
’اَللّٰھُمَّ! لَا تَجْعَلْ قَبْرِي وَثَنًا یُّعْبَدُ، لَعَنَ اللّٰہُ قَوْمًا اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِیَائِھِمْ مَّسَاجِدَ‘
’’اے اللہ! میری قبر کو بت نہ بنانا کہ اس کی پوجا کی جائے… اللہ نے ان لوگوں پر لعنت کی جنھوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجد بنا لیا۔‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر اور دیگر تمام انبیاء وصالحین کی قبریں اسی حکم کے تحت آتی ہیں۔
امیر المومنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ابو ہیاج اسدی سے فرمایا: ’’میں تمھیں اس کام پر روانہ کرتا ہوں جس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا تھا:
’’ہر تصویر کو مٹا دو اور ہر اونچی قبر کو برابر کردو۔‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کو پختہ کرنے، ان پر مجاور بن کر بیٹھنے اور ان پر عمارتیں (قبے وغیرہ) بنانے سے منع کیا ہے۔ آپ نے قبروں پر کتبے لگانے سے بھی روکا ہے، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں پر مساجد بنانے اوران پر چراغ روشن کرنے والے پر لعنت کی ہے۔
صحابۂ کرام اور تابعین و تبع تابعین کے دور میں عالم اسلام میں شرک کا نام و نشان تک نہ تھا، نہ کسی نبی کی قبر پر اورنہ کسی دوسرے کی قبر پر۔
موجودہ دور کے سنگین حالات
مصر میں اولیاء کے مزار جو شہروں اور بستیوں میں پھیلے ہوئے ہیں، چھ ہزار سے اوپر ہیں۔ سال بھر میں شاہد ہی کوئی دن ایسا ہوکہ مصر میں کوئی نہ کوئی میلہ یا عرس نہ منایا جاتا ہو۔ جس بستی یا گائوں میں کوئی مزار نہ ہو اسے بے برکت تصور کیاجاتا ہے۔
کچھ مزار بڑے ہیں اور کچھ چھوٹے۔ جس مزار کی عمارت بلند اور وسیع ہو اور صاحب قبر کی شہرت بھی خوب ہو اس کو بڑا مزار کہا جاتا ہے اور وہاں زائرین بھی کثیر تعداد میں آتے ہیں۔
قاہرہ کے بڑے مزاروں میں حسین رضی اللہ عنہ کا مزار، سیدہ زینب، سیدہ عائشہ، سیدہ سُکَینہ، سیدہ نفیسہ اور امام شافعی کے مزار شامل ہیں۔ اسی طرح (امام الحدیث) لیث بن سعدکا مزار بھی بڑے مزاروں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ شیخ بدوی کا مزار طنطا میں، شیخ دسوقی کا مزار دسوق شہر میں اور شیخ شاذلی کا مزار حمیژہ گائوں میں واقع ہے۔
مشرکین دور و نزدیک سے آکر حسین رضی اللہ عنہ کی مزعومہ قبر کی زیارت کرتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر اس کا طواف ہوتا ہے اور جانور بھی ذبح کیے جاتے ہیں، نیز بیماریوں سے شفا طلب کی جاتی ہے اور مصائب دور کرائے جاتے ہیں۔
شیخ بدوی کے مزار پر ہر سال میلہ لگتا ہے۔ یہاں مشرکین حج کی طرح اکٹھے ہوتے ہیں۔ اندون و بیرون ملک سے کثیر تعداد میں حاضری دیتے ہیں۔ ان میں سنی اور شیعہ سب لوگ شامل ہوتے ہیں۔
ترکی کے شہر قونیہ میں جلال الدین رومی کے مزار پر یہ کتبہ لگا ہوا ہے
صَالِحٌ لِلْأَدْیَانِ الثَّلَاثَۃِ: المُسْلِمِینَ وَالْیَھُودِ وَالنَّصَارٰی۔
یعنی شیخ جلال الدین رومی تینوں ادیان اسلام، یہودیت اور نصرانیت کے مشترکہ ولی ہیں۔ ان کو ’قطب اعظم‘ کہاجاتا ہے۔
شام کے حالات بھی مصر سے مختلف نہیں۔ صرف دمشق میں معتبر ذرائع کے مطابق ایک سو چورانوے مزار ہیں۔ چوالیس مزار تو بہت مشہور ہیں۔ ستائیس قبریں صحابۂ کرام کی طرف منسوب ہیں۔ دمشق میں یحییٰ بن زکریا کے سر مبارک کا مزار بھی ہے جو اموی مسجد کے احاطے میں ہے۔ اسی مسجد کے ایک کونے میں صلاح الدین ایوبی اور عماد الدین زنگی کے مقبرے اوردیگر قبریں ہیں۔ مشرکین ان کی زیارت کو آتے ہیں اور انھیں اپنی حاجات کا وسیلہ بناتے ہیں۔
شام میں ابن عربی (شیخ اکبر) صاحبِ فصوص الحکم کا مزار بھی ہے، حالانکہ وہ گمراہ آدمی تھا۔
ترکی میں چار سو اکیاسی جامع مساجد ہیں اوران میں سے کوئی بھی مزار کے بغیر نہیں۔ سب سے مشہور مسجد استنبول میں ہے جو ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے منسوب قبر پر بنائی گئی ہے۔
بھارت میں ڈیڑھ سو سے زائد مشہور و معروف مزار ہیں جہاں ہزاروں مشرکین زیارت کے لیے آتے ہیں۔
عراق میں صرف بغداد کے اندر ڈیڑھ سو سے زائد جامع مسجدیں ہیں۔ ان میں شاید ہی کوئی مسجد ایسی ہوگی جس میں مزار نہ ہو۔ موصل میں بھی چھہتر سے زائد مشہور مزار ہیں اور سب کے سب کسی نہ کسی جامع مسجد میں بنائے گئے ہیں۔ یہ ان مزاروں کے علاوہ ہیں جو چھوٹی مساجد میں یا عام جگہوں پر بنائے گئے ہیں۔
پاکستان میں بہاء الدین زکریا ملتانی کی قبر مزار کا درجہ حاصل کرچکی ہے۔ یہاں اہل شرک مختلف قسم کی عبادات بجالاتے ہیں، سجدے کیے جاتے اور چڑھاوے چڑھائے جاتے ہیں۔
پاکستان کے شہر لاہور میں علی ہجویری کا مزار ہے جو ملک کے بڑے مزاروں میں شمار ہوتا ہے۔ وہاں بھی مشرکین کی بڑی تعداد ہر وقت موجود رہتی ہے۔
مزے کی بات یہ ہے کہ مشرکین جن قبروں کو بہت بابرکت سمجھتے ہیں، ان میں سے اکثر کی کوئی حقیقت نہیں۔ وہ جھوٹی اور بناوٹی قبریں ہیں۔
ہم پیچھے بیان کر چکے ہیں کہ حسین رضی اللہ عنہ کی ایک قبر تو قاہرہ میں ہے جومشرکین کی زیارت گاہ ہے۔ وہ یہاں طرح طرح کی عبادات بجا لاتے ہیں، دعائیں مانگتے ہیں، جانور ذبح کرتے اورقبر کا طواف کرتے ہیں۔ ادھر حسین رضی اللہ عنہ کی ایک قبر عسقلان (فلسطین) میں بھی ہے۔ اسی طرح حلب کی مغربی جانب جوشن پہاڑ کی ڈھلان پر بھی حسین رضی اللہ عنہ کے سرکا مزار موجود ہے۔ ان کے علاوہ مزید چار مقامات ایسے ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں حسین رضی اللہ عنہ کا سر دفن ہے۔ وہ چار جگہیں یہ ہیں: دمشق، نجف اور کوفے کے درمیان مقام حنانہ، مدینہ منورہ میں فاطمہرضی اللہ عنہا کی قبر کے ساتھ اور نجف میں علی رضی اللہ عنہ کی قبر کے پہلو میں۔ اسی طرح میدان کربلا کے بارے میں بھی یہ دعوی کیاجاتا ہے کہ ان کا سر وہیں ان کے جسم کے ساتھ رکھ دیا گیا تھا۔
سیدہ زینب بنت علیرضی اللہ عنہما مدینہ میں فوت ہوئیں اور بقیع میں دفن ہوئیں۔ لیکن شیعہ نے ان کا ایک مقبرہ دمشق میں تعمیر کر ڈالا۔§
قاہرہ میں بھی ان کا ایک مقبرہ بہت مشہور ہے جبکہ کتب تاریخ میں کہیں بھی مذکور نہیں کہ سیدہ زینبرضی اللہ عنہا نے زندگی میں یا مرنے کے بعد کبھی مصر کاسفر کیا تھا۔
اسکندریہ والوں کا یہ اعتقاد ہے اور وہ یقین رکھتے ہیں کہ ابو درداء رضی اللہ عنہ ان کے ہاں ایک مزار میں مدفون ہیں۔ اہل علم کے ہاں یہ یقینی ہے کہ آپ اسکندریہ میں مدفون نہیں۔
قاہرہ میں سیدہ رقیہ بنت رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کا مبینہ مقبرہ بنا ہوا ہے۔ یہ زیارت گاہ اور سیدہ سکینہ بنت حسین ابن علیکا مزار دونوں فاطمی خلیفہ آمر باحکام اللہ کی بیوی نے بنوائے تھے۔
مشہور ترین مزاروں میں نجف میں علی رضی اللہ عنہ کا مزار ہے جبکہ یہ قبر جعلی ہے۔ درحقیقت علی رضی اللہ عنہ کوفہ کے قصر امارت میں دفن ہوئے تھے۔ بصرہ میں عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی قبر بنی ہوئی ہے، حالانکہ آپ مدینہ میں فوت ہوئے اور بقیع میں دفن ہوئے۔
حلب میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہماکا مزار ہے، حالانکہ آپ کی وفات مدینہ میں ہوئی۔ شام کے مشرکین نے ام کلثوم اوررقیہ رضی اللہ عنہماجو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادیاں اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی یکے بعد دیگرے بیویاں ہیں، ان کے نام کی قبریں بنا رکھی ہیں، حالانکہ وہ دونوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں مدینہ کے اندر ہی فوت ہوئیں اور وہیں بقیع میں دفن ہوئیں۔
دمشق کی جامع مسجد میں ہودعلیہ السلام کی قبر جعلی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حضرت ہودعلیہ السلام نے کبھی شام کا سفر نہیں کیا تھا۔ حضرموت (یمن) میں بھی ان سے منسوب ایک قبر موجود ہے۔
حضرموت ہی میں صالح علیہ السلام کی مبینہ قبر ہے، حالانکہ آپ حجاز میں فوت ہوئے تھے۔ صالح علیہ السلام کے نام کی ایک قبر یافا (فلسطین) میں بھی ہے۔ یافا میں ایوب علیہ السلام کا مزار بھی بتایا جاتا ہے۔
ایک سبق آموز قصہ
بعض لوگوں کی عادت ہے کہ زانیوں اور شرابیوں کو دیکھتے ہیں تو بڑے چراغ پا ہوتے ہیں، پیچ و تاب کھاتے ہیں مگر قبروں اور آستانوں کی دہلیز پر ماتھا ٹیکنے اور انھیں چومنے والوں سے یا وہاں کسی بھی قسم کی عبادت بجا لانے والوں سے کبھی ناراض نہیں ہوتے۔ زنا یا شراب نوشی کبیرہ گناہ ہیں لیکن یہ انسان کو دائرئہ اسلام سے خارج نہیں کرتے جبکہ غیر اللہ کی معمولی سی عبادت کرنے سے انسان مشرک بن جاتا ہے اور اسی حالت میں موت آجائے تو کفر کی موت مرتا ہے۔
علمائے ربانی ہمیشہ اپنے وعظوں میں عقیدے کی اصلاح پر زور دیتے رہے ہیں۔
ایک بزرگ عالم دین نے توحید کی اہمیت پر کتاب لکھی تو وہ طالبان علم کو شرح کے ساتھ پڑھانے لگے۔ وہ اس کے ساتھ ساتھ توحید کے مسائل بھی ذہن نشین کراتے تھے۔
ایک دن ایک طالب علم کہنے لگا: ’’استاد جی! (توحید کے علاوہ) کسی اور موضوع پر درس سننے کا ارادہ ہے۔ کوئی قصہ، کسی کی سیرت کا یا کوئی تاریخی واقعہ سنائیں۔‘‘
استاد صاحب نے کہا: ’’ٹھیک ہے۔ ہم ان شاء اللہ غور کریں گے۔‘‘
اگلے روز استاد صاحب پریشان اور غمگین نظر آئے۔ طلبہ نے پریشانی کی وجہ پوچھی تو استاد صاحب نے فرمایا: ’’قریبی گاؤں میں ایک آدمی کے بارے میں علم ہوا ہے کہ اس نے نیا گھر بنایا ہے اور گھر کو جناتی اثر سے بچانے کے لیے گھر کے دروازے کی دہلیز پر جن کی خوشنودی کے لیے ایک مرغ ذبح کیا ہے۔ میں نے واقعے کی تصدیق کے لیے ایک صاحب کو وہاں بھیجا ہے۔‘‘
طلبہ نے اس خبر سے کوئی خاص اثر نہ لیا، بس اس آدمی کے لیے ہدایت کی دعا کی اور خاموش ہوگئے۔
اگلے روز استاد صاحب تشریف لائے اورکہنے لگے: ’’میں نے کل والے واقعے کی تصدیق کرائی ہے۔ معلوم ہوا کہ اصل واقعہ کچھ اور ہے۔ اس آدمی نے جن کی خوشنودی کے لیے مرغ وغیرہ کچھ بھی ذبح نہیں کیا تھا بلکہ اس نے اپنی ماں کے ساتھ منہ کالا کیا ہے۔‘‘
یہ سننا تھا کہ تمام طلبہ طیش میں آگئے۔ اسے برا بھلا کہنے لگے۔
وہ کہہ رہے تھے: ’’اسے سزا دینی چاہیے۔‘‘ طلبہ نے خوب شور مچایا اور ہنگامہ برپا کیا۔
استاد صاحب کہنے لگے: ’’بچو! تمھارا معاملہ بھی انتہائی عجیب ہے۔ تم اس کے کبیرہ گناہ کے ارتکاب پر تو بڑے مشتعل ہوئے ہوجبکہ وہ شخص جو شرک میں مبتلا ہے، غیر اللہ کے لیے جانور ذبح کرتا ہے، اللہ کے سوا دوسروں کو پکارتا ہے تم اسے روکنے کی کوشش نہیں کرتے۔‘‘ اب طلبہ خاموش ہوگئے۔ استاد صاحب نے ایک بچے کو اشارہ کیا اور فرمایا: ’’مجھے کتاب التوحید پکڑائو۔ ہم اس کی دوبارہ شرح کرتے ہیں۔‘‘
شرک سب گناہوں سے بڑا گناہ ہے۔ اللہ اسے کبھی معاف نہیں کرے گا۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے
’یقینا شرک بہت بڑا گناہ ہے۔
مشرکین پر جنت حرام ہے، وہ ہمیشہ ہمیشہ آگ میں رہیں گے۔
فرمان الٰہی ہے
جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے، یقینا اللہ نے اس پر جنت حرام کردی ہے اوراس کا ٹھکانا دوزخ ہے اور ظالموں کا کوئی مدد گارنہیں۔
جو انسان شرک میں مبتلا ہوگیا، شرک اس کی تمام عبادات نماز، روزہ، حج، جہاد فی سبیل اللہ اور صدقات و زکاۃ وغیرہ ضائع کر دے گا۔ ارشاد ربانی ہے
بلاشبہ تیری طرف اوران کی طرف جو تجھ سے پہلے ہوئے یہ وحی کی گئی کہ اگر تو نے شرک کیا تو تیرے اعمال ضرور ضائع ہوجائیں گے اور تو ضرور خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔
مندرجہ بالا سب باتیں غور طلب ہیں۔ پڑھنے کے بعد اپنی رائے سے ضرور مطلع کیجیئے گا۔
بہت شکریہ
- 1
- Sohail Ahmed liked this post
- AuthorPosts
You must be logged in to reply to this topic.

