Thread:
ہندو لڑکیوں کی شادی، حقائق کیا ہیں؟ آصف محمود
Home Page › Forums › Chit-Chat-گپ شپ › ہندو لڑکیوں کی شادی، حقائق کیا ہیں؟ آصف محمود
- This topic has 5 replies, 4 voices, and was last updated 6 years, 9 months ago by
AQSA. This post has been viewed 887 times
- AuthorPosts
- March 27, 2019 at 3:24 pm #2
Re: ہندو لڑکیوں کی شادی، حقائق کیا ہیں؟ آصف محمود

ہندو لڑکیوں کی شادی، حقائق کیا ہیں؟ آصف محمود
سندھ میں ہندو لڑکیوں کے قبول اسلام کی حقیقت کیا ہے ، کیا یہ سب کچھ جبر کے تحت ہو رہا ہے؟
ہمارے سماج کا ایک بڑا المیہ پولرائزیشن ہے۔ جب بھی کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے ہم اپنی اپنی عصبیتوں کے مطابق ایک پوزیشن لے لیتے ہیں اور اس کے بعد ہماری فکری صلاحیتیں اس عصبیت کے حق میں دلائل تلاش کرنے میں برباد ہو جاتی ہیں۔ تازہ معاملے پر بھی مورچے سنبھالے جا چکے ہیں۔ اب کسی کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ حقیقت کیا ہے، ترجیح صرف یہ ہے اس چاند ماری کے اختتام پر میدان اس کے نام رہنا چاہیے۔
جبر اور اغواء کے امکان کو ہرگز نظرانداز نہیں کیا جا سکتا لیکن لازم نہیں کہ ہر شادی میں جبر کا عنصر ہی شامل ہو۔ سماجی اور معاشی پہلو بھی کارفرما ہو سکتے ہیں اور دل کے بھی۔ رنکل کماری کا کیس دیکھ لیجیے۔ اس پر کتنا شور مچا تھا۔ لیکن رنکل کماری نے ماتحت عدالت میں بیان دیا کہ اس نے محبت کی شادی کی اور مرضی سے مسلمان ہوئی، اسے کسی نے اغواء نہیں کیا۔ پھر یہ معاملہ سپریم کورٹ میں آ پہنچا۔ جسٹس افتخار چودھری، جسٹس عارف خلجی اور اور جسٹس طارق پرویز اس کیس کو سن رہے تھے۔ انھی دنوں میں نے بھر چونڈی شریف کے گدی نشین میاں عبدالخالق المعروف میاں مٹھو صاحب کو اپنے ٹاک شو میں مدعو کیا۔ ان کا کہنا تھا لڑکی اگر سپریم کورٹ میں کہہ دے کہ اسے اغواء کیا گیا تو آپ بھرچونڈی شریف آ کر مجھے پکڑ لینا۔
پھر وہی ہوا۔ رنکل کماری نے سپریم کورٹ میں کہا اسے کسی نے اغواء نہیں کیا، وہ مرضی سے مسلمان ہوئی اور اپنے شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہے۔ سندھ کی ماتحت عدالتوں میں تو میاں مٹھو کا خوف ہوتا ہوگا لیکن سپریم کورٹ میں کھڑی رنکل کماری کو تو کوئی خوف نہ تھا کیونکہ اس کیس میں تو امریکہ بھی دلچسپی لے رہا تھا اور براڈ شرمن نے صدر پاکستان آصف زرداری کو اس ضمن میں ایک خط بھی لکھا تھا۔
رویتا میگھوار کا مقدمہ دیکھ لیجیے۔ اس مقدمے میں بھی جب بات ہائی کورٹ تک پہنچی تو سندھ ہائی کورٹ سرکٹ بنچ حیدر آباد میں اس خاتون نے بھی یہی کہا کہ اسے کسی نے اغواء نہیں کیا بلکہ اس نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے۔ عدالت کے حکم پر جب اس لڑکی کو دارالامان بھیجا گیا تو وہاں اس کی ماں بھی اسے ملنے آئی۔اس نے بھی یقیناً اسے قائل کرنے کی کوشش کی ہوگی لیکن اس کا موقف وہی رہا۔
احباب سوال اٹھا رہے ہیں کہ نو عمر لڑکیاں ہی کیوں مسلمان ہوتی ہیں۔ یہ واقعاتی طور پر درست بات نہیں۔ امر واقع یہ ہے کہ ہندو لڑکے بھی مسلمان ہوتے ہیں اور ایسے شواہد بھی موجود ہیں کہ مسلمان ہونے کے بعد ان لڑکوں کی شادیاں بھی مسلمان گھرانے میں ہوئیں۔ مذہب کی تبدیلی کا رجحان اگر بڑے بوڑھوں کی نسبت نوجوانوں میں زیادہ ہے تو اس کے بہت ساری سماجی اور معاشی عوامل بھی ہو سکتے ہیں۔ ان کا مطالعہ کیے بغیر اسے جبر کا عنوان دینا ایک غیر منطقی رویہ ہوگا۔
یہ پہلو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے کہ ایسی شادیوں کے بعد دلہن کے ساتھ مسلمان گھرانوں میں کیسا سلوک کیا جاتا ہے۔ اگر یہ شادیاں جبر سے کی جائیں تو احترام کا تعلق وجود میں نہیں آ سکتا۔ رنکل کماری کے مقدمے اور اس کی جزئیات سے میں چونکہ واقف ہوں تو مجھے علم ہے اس کی شادی کے بعد اسے جو عزت دی گئی، ایک مسلمان لڑکی سندھ کے دیہی معاشرے میں اس کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔ بھرچونڈی شریف کے مزار میں کسی مسلمان عورت کو داخل ہونے کی اجازت نہیں۔ لیکن رنکل کماری جب مسلمان ہوئی تو اس نے مزار کے اندر جانے کی خواہش کا اظہار کر دیا۔ بھرچونڈی شریف کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا جب کوئی عورت اندر گئی۔ لوگ حیران ہوئے تو متولی نے لوگوں کو سمجھایا کہ فریال بی بی نو مسلم خاتون ہے اور اس وقت یہ ہمارے لیے سیدوں سے بھی زیادہ قابل احترام ہے۔ ہم یہاں بیٹھ کر اندازہ نہیں کر سکتے لیکن مقامی روایات سے آگہی رکھنے والے جانتے ہیں یہ ایک غیر معمولی احترام تھا۔ جنہیں اغواء کیا جاتا ہے، انہیں یہ عزت نہیں دی جاتی۔
یہ شادیاں اگر جبر اور اغواء کا نتیجہ ہوں تو توہین، تذلیل اور ظلم ایسی شادیوں کا منطقی نتیجہ ہونا چاہیے۔ یہ محض ہوس کی جذبات میں کی گئی شادیاں ہوں تو لازم ہے مختصر دورانیے کے بعد معاملہ طلاق تک پہنچ جائے۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کا کہنا ہے کہ ہر ماہ پچیس ہندو لڑکیوں کو زبردستی مسلمان بنایا جاتا ہے۔ کیا ہیومن رائٹس کمیشن ہماری رہنمائی فرمائے گا ان پچیس میں سے کتنی واپس بھاگ آتی ہیں؟ اگر یہ زبردستی تھی تو کبھی تو اس لڑکی کو بھاگ جانے کا موقع ملا ہی ہوگا۔ کیا وجہ ہے کہ طلاق کا کوئی واقعہ بھی سامنے نہیں آیا۔
مثالی صورت حال یہی ہوتی ہے کہ لڑکیاں باپ اور ماں کی دعاؤں کے سائے میں گھر سے رخصت ہوں لیکن جب ایسا نہ ہو سکے تو پھر قانون بہر حال لڑکی کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ شادی کر لے۔ یہ حق مسلمان لڑکی استعمال کرے تو لبرل حضرات اس کا ساتھ دیتے ہیں۔ یہی حق ایک ہندو لڑکی استعمال کرے تو اس کا ساتھ نہیں دیتے۔
بھرچونڈی شریف کا معاملہ بھی سمجھ لیجیے۔ یہ ایک قدیم درگاہ ہے اور باقی درگاہوں سے مختلف۔ حضرت مولانا عبید اللہ سندھی، جو پہلے ایک سکھ تھے، اسی درگاہ پر آ کر مسلمان ہوئے تھے۔ اس نسبت سے غیر مسلموں کے قبول اسلام کے معاملے میں یہ لوگ بہت متحرک اور حساس رہتے ہیں۔ غیر مسلموں کو بھی اس حسا سیت کا علم ہے اسی لیے جب عمران خان نے میاں مٹھو کو تحریک انصاف میں شمولیت کی دعوت دی تو ہندو برادری نے احتجاج کیا۔
جبر کے امکانات کو بھی البتہ رد نہیں کیا جا سکتا، ایک معاشرے میں ہر برائی کا امکان موجود رہتا ہے اور سندھ کے دیہی معاشرے میں تو پتریئاچل اپرچونیٹزم کا خطرہ بھی موجود ہے اور کمسنی کی شادیوں کا بھی۔ ہر کیس کو اس کے میرٹ پر دیکھا جانا چاہیے۔ جبر اور ظلم ہوا ہو تو ظالم کو نشان عبرت بنا دینا چاہیے۔ ہمیں بھولنا نہیں چاہیے کہ اقلیتوں پر اسلامی ریاست میں ظلم ہوا تو روز قیامت ان کا مقدمہ آقا ﷺ خود لڑیں گے۔ اقلیتوں کا تحفظ ہماری مذہبی ذمہ داری بھی ہے، اخلاقی بھی اور آئینی بھی۔ نیوزی لینڈ کے سماج کے رویوں کے بعد ہم پر یہ ایک قرض بھی ہے۔ لیکن محض برائے وزن بیت اپنے سماج کو لعن طعن شروع کر دینا بھی ایک قابل تحسین عمل نہیں۔ توازن ہی بہترین راستہ ہوتا ہے۔
The author has tried his best to convince the readers that reports of forced conversion are not trustworthy but it has escaped his attention that underage marriages are illegal as per the law!! Is there any Daleel against this?
-
This reply was modified 6 years, 9 months ago by
Musician.
- 1
- AQSA liked this post
March 27, 2019 at 5:50 pm #3Re: ہندو لڑکیوں کی شادی، حقائق کیا ہیں؟ آصف محمود
اب سارے معاملے میں دیکھنا یہ ضروری ہے کہہ لڑکیاں اگر مسلمان ہو گئی ہیں اور شادی کر لی ہے ۔تو بھی معاشرے کو ان کے حقوق کا خیال رکھنا چاہئے ایک بالغ عورت اور مرد کو قانون کے علاوہ آپنا
مذہب بھی اجازت دیتا ہے کہہ وہ آپنی منزل کا راستہ آپنی مرضی سے انتخاب کرے ۔۔۔۔۔۔اور اگر یہ لڑکیاں ہندوں تھی اور ان سے ذبردستی مذہب تبدیل کروایا گیا ہے۔۔۔۔تو یہ اس کیوں ہوا ہےاور اب جب کہہ یہ عدالت میں بیٹھی ہیں تو پہلے جب ان سے مذہب تبدیل کروایا جارہا تھا اس وقت ان کو آواز اٹھانے کا خیال کیوں نہیں آیا ۔۔۔۔۔۔
ہر حال میں فصیلہ ان لڑکیوں نے ہی کرنا ہے۔۔۔ان کہہ ان پھیری والوں نے جو ہر موڑ پر پانی میں پکوڑے تلنے لگتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
March 28, 2019 at 12:58 am #4
SEMirzaKeymasterOfflineThread Starter- Threads: 245
- Posts: 333
- Total Posts: 578
- Join Date:
May 5, 2018 - Location: Kashmir
Re: ہندو لڑکیوں کی شادی، حقائق کیا ہیں؟ آصف محمود
@musician @saleem-raza @mirzaghalib
This has been confirmed through documentary evidence that both girls (sisters) are definitely not under age. Both confessed in the presence of investigation judge and on media that they converted to Islam and their marriage was as per their own wish and consent.
If I look at the law and order situation in Sindh that prevails unchanged since a long time, I am confident to state that all sorts of evidence and groomed witnesses can easily be manufactured and bought.
I do not rule out involvement of a Sindhi vadera in this drama.
Why don’t they leave Hindu minorities to live their life as they please.
-
This reply was modified 6 years, 9 months ago by
SEMirza.
- 1
- AQSA liked this post
March 28, 2019 at 1:17 am #5
SEMirzaKeymasterOfflineThread Starter- Threads: 245
- Posts: 333
- Total Posts: 578
- Join Date:
May 5, 2018 - Location: Kashmir
Re: ہندو لڑکیوں کی شادی، حقائق کیا ہیں؟ آصف محمود
اب سارے معاملے میں دیکھنا یہ ضروری ہے کہہ لڑکیاں اگر مسلمان ہو گئی ہیں اور شادی کر لی ہے ۔تو بھی معاشرے کو ان کے حقوق کا خیال رکھنا چاہئے ایک بالغ عورت اور مرد کو قانون کے علاوہ آپنا مذہب بھی اجازت دیتا ہے کہہ وہ آپنی منزل کا راستہ آپنی مرضی سے انتخاب کرے ۔۔۔۔۔۔اور اگر یہ لڑکیاں ہندوں تھی اور ان سے ذبردستی مذہب تبدیل کروایا گیا ہے۔۔۔۔تو یہ اس کیوں ہوا ہےاور اب جب کہہ یہ عدالت میں بیٹھی ہیں تو پہلے جب ان سے مذہب تبدیل کروایا جارہا تھا اس وقت ان کو آواز اٹھانے کا خیال کیوں نہیں آیا ۔۔۔۔۔۔ ہر حال میں فصیلہ ان لڑکیوں نے ہی کرنا ہے۔۔۔ان کہہ ان پھیری والوں نے جو ہر موڑ پر پانی میں پکوڑے تلنے لگتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔سلیم رضاء بھائی
لڑکیوں نے اِس مقدمہ میں متعیّن کردہ تحقیقاتی جج کو دیئے گئے اپنے بیان میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے بغیر کِسی کے دباؤ میں آئے اپنی مرضی سے اِسلام قبول کیا اور پھر شادی کی۔میڈیا کو بھی دونوں لڑکیوں نے یہی بیان دہرایا۔ دونوں سگی بہنیں ہیں۔
سنڈھ میں وڈیرا راج قیامِ پاکستان سے پہلے چلا آتا ہے اور اب تو پہپلزپارٹی نے اِسے چار چاند لگا رکھے ہیں۔ سندھی باسیوں کو اپنی رعایا یا غلام سمجھنا اُن کی گھٹی میں پڑا ہے۔ سمجھ لیجیئے اندونِ سندھ میں وڈیروں کے اہم ہتھیار وکلاء برادری اور پولیس ہے۔ صرف چند واقیات عوام کی نظر میں اِتفاقاً آ جاتے ہیں ورنہ زیادتی سندھ میں ہو رہی ہو اور وہ قصہِ خاص و عام ہو جائے ممکن نہیں۔
پاکستان کے دیگر علاقوںمیں سے بھی زیادہ اِس مخصوص بیماری کی وباء سندھ میں پھیلی ہوئی ہے۔سندھ، جہاں چیف جسٹس کے ہاتھوں برامد شدہ شراب کو شہد اور زیتون کا تیل بنا دیا جاتا ہے وہاں ہر قسم کا ثبوت بھی تیار ہوتا ہے اور ہر طرح کے گواہ مناسب قیمت پر میّسر ہیں۔
میرا خیال ہے، زور زبردستی کے اِس واقعے میں کسی سندھی وڈیرےکے ملّوث ہونے کے امکان کو رّد نہیں کیا جاسکتا، اور جب بات کھل گئی اتو اُسے لڑکیوں کی رضاء و رغبت بنا نے کے لیے میڈیا کی خِدمات کو خرید لیا گیا۔
- 1
- AQSA liked this post
April 18, 2019 at 9:26 pm #6Re: ہندو لڑکیوں کی شادی، حقائق کیا ہیں؟ آصف محمود
ہندو لڑکیوں کو اندروں سندھ میں ہمیشہ اغوا کا خطرہ رہتا ہے۔ اکثر سُننے میں آتا ہے کہ لڑکی کو فلاں وڈیرے نے اغوا کر لیا۔اِس کے بعد سمجھ لیجیئے کچھ ہونے والا نہیں کیونکہ پولیس تو سندھ کے وڈیروں کی غلام ہے۔ اندرون سندھ میں وڈیرے کی مرضی کے بغیر پولیس آپنے طور پر کِسی بھی قسم کی کاروائی کرنے سے پہلے وڈیرے کے ڈیرے پر حاضری ضرور دیتے ہیں۔ پھر اگر وڈیرہ رضاء مندی ظاہر کرے تو کاروائی ہو گی ورنہ کیس وہیں روک دیا جاتا ہے۔
ممکن ہے جو یہ دونوں بہنیں کہہ رہی ہیں وہ صحیح ہو۔ اگر ایسا ہے تو پھر یہ واقعہ ایک عجوبہ ہے کیونکہ سندھ میں ایسا ہونا کبھی سُننے میں نہیں آتا۔
-
This reply was modified 6 years, 9 months ago by
- AuthorPosts
You must be logged in to reply to this topic.

