سن 1968 میں ایک عجیب و غریب مخلوق نے پاکستان میں جنم لیا۔ یہ مخلوق سیاسی مخلوق کہلائی اور اپنے آپ کوکِسان اور مزدور دوست کہہ کر متعارف ہوئی۔ نعرہ ایسا تھا کہ مجبوروں کے دِل کی آواز۔ یہ نعرہ کیا تھا، مجبور اور غریب پاکستانیوں کو روٹی، کپڑا اور مکان بدون تفریق مہیا کرنے کا وعدہ کیا اور سب لوگ دِل و جان سے اِس سیاسی مخلوق کےپیچھے پیچھے چل دی ۔ اِس مخلوق کے بانی نے قوم سے وعدے وعید تو بہت کیے لیکن سب پورے ہونے سے پہلے ہی وہ فوجی عامر اور ایک مخالف ہم منصب سیاسی مخلوق سے سینگ لڑا بیٹھا اور آخر کار قابو میں لے آنے کے بعد اُسے پھانسی پر چڑھا دیا گیا۔ وہ وقت جاتا ہے اور آج، ہم اِسی سیاسی مخلوق کے کئی ایک نمائندوں کےوعدوں پراپنا وقت بتا رہے ہیں۔ جو بھی اِس سیاسی مخلوق میں سے ہمارا نوخدا بن کر آتا ہے اپنے پانچ سالہ دور میں ہمیں پہلےسے زیادہ غربت میں دھکیل دیتا ہے اور ہم اور زیادہ مقروض ہو چکے ہوتے ہیں۔
عاشر عظیم صاحب بھی اِس سیاسی مخلوق کے ڈسے ہوئے ہیں ۔اچھا ہوا وہ کیناڈا چلے گئے اور اب وہاں ہنسی خوشی ہیں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اِس سیاسی مخلوق جیسے عفریت سے رہائی نصیب کرے اور یہ تبھی ہو گا جب کوئی مردِمومن ، مجاہدانہ صفات رکھنے والا قائد آئے اور ہم پاکستانیوں کو اِن دروغ گو اور بد عنوان سیاسی مخلوق سے نجات دِلائے۔۔۔۔آمین