Thread:
پاکستان میں غیر ملکی این جی او کے فراڈ کی ہوشربا داستان
Home Page › Forums › Crime & Punishment – جرم و سزاء › پاکستان میں غیر ملکی این جی او کے فراڈ کی ہوشربا داستان
- This topic has 4 replies, 4 voices, and was last updated 7 years, 1 month ago by
Sohail Ahmed. This post has been viewed 778 times
- AuthorPosts
- December 9, 2018 at 3:02 pm #3
Sohail AhmedParticipantOffline- Member
- Threads: 16
- Posts: 64
- Total Posts: 80
- Join Date:
December 2, 2018 - Location: Rodiport
Re: پاکستان میں غیر ملکی این جی او کے فراڈ کی ہوشربا داستان
Buhat zabardest hai, eik choti se bat main be janana chayata hon NGO,s ki zarorat kiun hoti hai,kis be mulk main,Ab yah Article itna lamba hai aur puri details hai,lekin main historyhe dakh saka hon,main 1990 t0 1996 tik NGO RCG/Harglar Baily Inc main asa Auditors kam kiya hai jo World Bank ki Financially concern thi yah ho gi, Shayad mera andaza be kuch zaida favourable nai,sab NGO,s funding kay through he detail dosara mulk main jati hai,Jasay Enercon ko Fanice World bank karti thi wo through RCG/Hargler Bailly Inc kay project Controller thi,around 7000 Arban & Roller Areas ki complete details through NGO,s Jati rahi thi,is leya isko Froud he kah jay tou zaida acha word hai,ab tou her guli main eik do NGO,s Kam kar rahi hai,
December 10, 2018 at 8:35 am #4
SEMirzaKeymasterOffline- Threads: 245
- Posts: 333
- Total Posts: 578
- Join Date:
May 5, 2018 - Location: Kashmir
Re: پاکستان میں غیر ملکی این جی او کے فراڈ کی ہوشربا داستان
سہیل بھائی اور ڈاکٹر جاوید صاحب،
این جی اُ وزانگریزی زبان میں فلاحِ عامہ کے غیر سرکاری ادارو ں اور تنظیموں کامحفف ہے۔ اس وقت دنیا کے تقریباً ہر ملک میں فلاحِ عامہ کے سرکاری اداروں کے ساتھ ساتھ غیر سرکاری تنظیموں کی بھی بھرمار ہے۔پاکستان جیسے غریب ملک میں یہ تعداد ہزاروں میں ہے جن میں رجسٹرڈ این جی اُوز کی تعداد غیر قانونی این جی اُوز کی نسبت کم ہے۔سبھی مقامی یا غیر ملکی غیر سرکاری فلاحی تنظیموں کو بہرحال مقامی حکومت سے اجازت نامہ لیناضروری ہوتا ہے تب جا کر یہ اپنی سرگرمیاں قانونی طور پر جاری رکھ سکتے ہیں۔
تاریخ میں ہمیں جن پہلی این جی اُوز کا وجود ملتا ہے ان میں ریڈ کراس اور بوائے سکاؤٹس سرفہرست تھیں لیکن آج حقوق الانسان ، گرین پیس جیسی تنظیمیں سب سے زیادہ مقبول ہیں اور عالمی وجود رکھتی ہیں ۔دنیا کے تقریباً ہر ملک میں ان کے دفاتر موجود ہیں۔
سوال اُٹھتا ہے کہ کیا ہمیں ان اداروں یا تنظیموں کی ضرورت ہے؟اگر ہے تو کیوں؟
کیا ان تنظیموں کو مفادِ عامہ کا ایک اہم عضو سمجھا جا سکتا ہے؟
کیا ان تنظیموں کی آڑ میں دیگر سرگرمیاں بھی جاری رکھنا ممکن ہو جاتا ہے؟
کیا یہ تنظیمیں کسی ملک کے لیے خطرناک بھی ہو سکتی ہیں؟
غیر ملکی این جی اُوز بہت سے عطیات کو اپنے مصروفات کی مد میں ہضم کر جاتے ہیں۔ ابتداء بہت اچھی ہوتی ہے لیکن جونہی این جی اُو کے قدم جمتے ہیں اور ساکھ بن جاتی ہے تو عطیات میں سے طرح طرح کے طریقوں کی مدد سے رقم غائب کر دی جاتی ہے اور جہاں رقم استعمال ہو نا ہوتی ہے وہا ں نہیں ہوتی۔ چونکہ یہ غیر ملکی ہوتی ہیں اس لیے حکومتِ پاکستان کو فنڈز بارے زیادہ معلومات نہیں دی جاتیں۔
کچھ این جی اُو حکومت میں اعلی عہدوں پر فائز چلا رہی ہیں۔ فنڈز وہ بھی کھا جاتی ہیں لیکن اور کی این جی اُوز کے طور طریقے اور ایجنڈا عموماً ہماری معاشرتی اور مذہبی اقدار سے متصادم بھی ہوتا ہے۔
سب سے خطرناک وہ ہیں جو رفاہی کاموں کی آڑ میں ڈیٹا مائننگ کر رہی ہوتی ہیں جو معلومات کی شکل غیر ممالک کو ہمارے ملک اور ہمارے باشندوں کی پروفائلنگ میں استعمال کی جاتی ہیں۔
ان میں سے بہت سی لبرل تہذیب کے پرچار کے لیے ہوتی ہیں۔ ان کا مقصد پاکستانیوں بلخصوص خواتین کو بااختیار اور خود مختار بنانا ہوتا ہے۔کچھ غیرمسلم مذہبی تنظیمیں بھی این جی اُوز کی شکل میں تعلیم، طبی سہولیات اور گھریلو صنعتوں کے فروغ کے لیے بظاہر کام کر رہی ہوتی ہیں لیکن ان کا اصل ایجنڈا لوگوں کو اُن کے اپنے مذہب کی طرف راغب کرنا ہوتا ہے۔
جاری ہے۔۔۔۔
-
This reply was modified 7 years, 1 month ago by
SEMirza.
December 11, 2018 at 12:23 am #5
Sohail AhmedParticipantOffline- Member
- Threads: 16
- Posts: 64
- Total Posts: 80
- Join Date:
December 2, 2018 - Location: Rodiport
Re: پاکستان میں غیر ملکی این جی او کے فراڈ کی ہوشربا داستان
Ejaz Bhai,
Balkul asa he hai,gharab Mulko main is leya be kamyub hoti hai kay buhat say jobless aur high salaries per Professional ko hiring karti hai,Trips lagty hai,aur be buhat se facilities daty hai,
- AuthorPosts
You must be logged in to reply to this topic.

