@sohailnice
پیپلزپارٹی کی ایک بہت پرانی تکلیف کسی بھی نئے ڈیم کی تعمیر ہے۔ ماضی میں یہ پارٹی دریائے سندھ کے پانی کی چوری کا جھوٹا الزام پنجاب پر لگا کر صوبائیت کو ہوا دیتے ہوئے شور مچائے رہتی تھی۔ ان کے ایک بکاؤ وزیر خورشید شاہ اور اے این پی کے اسفندیار ولی ،محمود اچکزئی جیسے ملک دشمن غداروں کے ہم آواز ہو کر آواز لگاتے رہے کہ کالا باغ ڈیم ہماری لاشوں پر بنے گا۔ دراصل یہ دشمن کے ہاتھوں بکے ہوئے نام نہاد سیاست دان ہیں جو صرف اور صرف پیسہ بنانے کے لیے سیاست سے وابستہ ہیں۔ ان کی ہمدردیاں بھارت اور افغانستان سے ہیں جہاں سے بھارت انہیں پاکستان میں ڈیم مخالف آواز اُٹھاتے رہنے کی ایک اچھی خاصی رقم بھیجتا رہتا ہے۔
اب جب احتساب کا عمل شروع ہے اور یہ سب بدعنوان نیب کی لسٹوں پر آچکے ہیں اس لیے انکی سُر ذرا سی تبدیل ہوئی ہے ورنہ ان لوگوں سے کچھ بھی بعید نہیں۔پاکستان میں اس وقت پانی کے بارے میں ہنگامی حالات کا سامنا ہے اور بہت غور و فکر کے بعد حکومت کا فیصلہ ہے کہ وہ ہر حالت میں ایک نہیں متعدد ڈیم بنا کر رہے گی۔