Thread:
مارچ23 کی اہمیت ۔
Home Page › Forums › Chit-Chat-گپ شپ › مارچ23 کی اہمیت ۔
- This topic has 1 reply, 2 voices, and was last updated 6 years, 9 months ago by
SEMirza. This post has been viewed 860 times
- AuthorPosts
- March 24, 2019 at 11:57 pm #2
SEMirzaKeymasterOffline- Threads: 245
- Posts: 333
- Total Posts: 578
- Join Date:
May 5, 2018 - Location: Kashmir
Re: مارچ23 کی اہمیت ۔
@saleem-raza @shahidabbasi @nadaan @musician @maliksaab @masroirbahrain
تئیس مارچ کے حوالے سے خصوصی تحریر
تئیس مارچ کا دِن وطنِ عزیز پاکستان کی تاریخ میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ تیئس مارچ انیس سو چایس کو لاہور واقع منٹو پارک جو موجودہ اقبال پارک ہے میں قرارداد پاکستان منظور ہوئی اور تئیس مارچ کے ہی دِن انیس سو چھپن میں پاکستان کا پہلا آئین منظور ہوا۔ تئیس مارچ کی تاریخی اہمیت کو مدِنظر رکھتے ہوئےہر سال تئیس مارچ کو یومِ پاکستان منانے کا علان سرکاری طور پر کیا گیا۔اِس تاریخی دِن کو منانے کیلیئے پورے پاکستان میں سرکاری و غیرسرکاری سطح پر تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ تئیس مارچ انیس سو چالیس کو قائداعظم کی زیرِ صدارت منظور کی گئی قراردادِ پاکستان نے تحریکِ پاکستان میں نئی روح پھونک دی تھی جس سے برِصغیر کے مسلمانوں میں ایک نیا جوش و ولولہ پیدا ہوا۔ یہاں یہ امر قابلِ ذِکر ہے کہ آل اِنڈیا مسلم لیگ کی طرف سے پیش کی گئی قراردار کو اس وقت “قراردارِ لاہور” کا نام دیا گیا تھا جس کو دشمنانِ اسلام و پاکستان نے طنزیہ طور پر”قراردادِ پاکستان” کے نام سے پکارنا شروع کر دیا تھا اور اِسی دِن قراردادِ لاہور قراردادِپاکستان کے نام سے مشہور ہو گئی اور مسلمانوں نے اس نئے نام یعنی “قراردادِ پاکستان” کو بخوشی قبول کر لیا۔
تاریخی پس منظر
برِ صغیر میں فروری انیس سو سینتیس کے انتحابات اور اِس کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی صورتحال میں وقت گذرنے کے ساتھ ہندو بنئیوں نے برِصغیر کے مسلمانوں کے گِرد معاشی، سیاسی، سماجی و معاشرتی گھیرا مزید تنگ کرناشروع کر دیا تھا۔ ذات پات، اونچ نیچ اور فرقوں میں بٹے ہوئے ہندو بنئیوں نے نہ صرف مسلمانوں پر زندگی تنگ کر دی تھی بلکہ دیگر اقلیئتوں جن میں عیسائی وغیرہ بھی شامل تھے ان کا جینا بھی دوبھر ہو گیا تھا۔ ایسے حالات میں مسلمانوں کو اپنی سماجی، ثقافتی، سیاسی، معاشرتی، مذھبی اور معاشی روایات کر پروان چڑھانے میں شدید مشکلات کا سامنا تھا اور یہ دو قومی نظریے کی انتہا تھی۔ مزید یہ کہ اِقتدار کے نشے میں مست کانگریسی حکومت نے ہندو اکثریت کو رام کرنے کے لیے انتہا پسند فیصلےکیے۔ بندے ماترم جیسے مسلم مخالف ترانے کا اِنتحاب انہی میں سے ایک فیصلہ تھا کہ سبھاش چندر بوس، کانجی دوارکا داس اور خود رابندرناتھ ٹیگور روکتے ہی رہ گئے۔ سبھاش کے بھائی سرت چندر بھوس کے ہارورڈ یونیورسٹی سے وابستہ پوتے سوگاتا بوس نے حال ہی میں اپنے چچا کی سوانح میں ٹیگور کے گاندھی کے نام خطوط بھی چھاپے ہیں جِس میں بندے ماترم کو مسلمان مخالف گیت قرار دیتے ہوئے ٹیگور نے اِسے اپنانے سے منع کیا تھا۔ یہی نہیں بلکہ مشہور تاریخ دان کے کے عزیز نے تو کانگریسی وزارتوں کی قراردادوں اور فیصلوں پر مشتمل دو جلدوں میں مستنند کتا ب بھی لِکھی ہے جو ایسے ہی ناعاقبت اندیش فیصلوں سے بھری پڑی ہے۔ تو یہ وہ سیاست تھی جو تئیس مارچ اُنیس سو چالیس کا جواز مہیا کرتی ہے۔
تئیس مارچ اُنیس سو چالیس کی قرارداد
مارچ انیس سو چالیس کی قرارداد کی تیاری میں اِس امر کو خاص طور پر توجہ کا مرکز بنایا گیا تھا کہ قرارداد میں کہیں بھی کوئی کمی یا خامی نہ رہ جائے جس کا فائدہ دشمن عناصر اُٹھایئں۔ اس مقصد کےلئے بہت سے عبقری، دانشوور اور قانونی ماہریں کو قرار داد کے متن کی تیاری میں شامل کیا گیا تھا لیکن ہندوؤں کی کینہ پرور لیڈر شِپ ایک جامع اورمکمل قراردار پر تنقید کرنےسے باز نہ رہ سکی۔ قائداعظم محمد علی جناح کی سیاسی بصیرت کی وجہ سے قراردارداد سے لے کر تمام معاملات بخیر و عافیت طے پا گئے۔ آل اِنڈیا مسلم لیگ کی مجلس عاملہ نے بائس، تئیس اور چوبیس مارچ کو آل اِنڈیا مسلم لیگ کا سالانہ اجلاسِ عام منعقد کرنے کا فیصلہ کیا جس میں تاریخی اہمیت کی حامل یہ قرارداد لاہور پیش کرنا تھای جو بعد میں چل کر قراردادِ پاکستان کے نام سے مشہور ہوئی۔ اکیس مارچ انیس سو چالیس کا قائد اعظم محمد علی جناح فرنٹئیر میل کے ذریعے لاہور ریلوے سٹیشن پر پہنچے جہاں لوگوں کا جمِ غفیر آپ کے شاندار استقبال کیلیئے موجود تھا اور تاریخ بتاتی ہے کہ لاہور کے ریلوے سٹیشن پر تِل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔ مسلمانوں کا جوش و خروش دیدنی تھا اور لوگ گِرد و نواح کے تمام علاقے فلک شگاف تعروں سے گونج رہے تھے۔ قائداعظم محمد علی جناح اپنے ضروری معاملات نمٹانے کے بعد جب جلسہ گاہ پہنچے تو انہوں نے برجستہ تقریر کرنے کا فیصلہ کیا اور اس وقت کے میڈیا کے مُطابق قائداعظم نے تقریباً ایک سو منٹ پر مشتمل شاندار تقریر کی جِس کوسُن کر حاضرینِ جلسہ دم بخود رہ گئے۔ قائداعظم نے ہندوؤں اور مسلمانوں کے جداگانہ قومیتی وجود کو حقیقی فطرت قرار دیتے ہوئے فرمایا۔۔۔
ہندوؤں کی سمجھ میں کیوں نہ آتا کہ اِسلام اور ہندواِزم مذہب کے عام مفہوم ہی نہیں بلکہ واقعی دو جداگانہ اور مختلف اجتماعی نظام ہیں اور یہ محض خواب ہے کہ ہندو اور مسلمان کبھی ایک مشترکہ قوم بن سکتے گے۔
بلآخر وہ وقت آن پہنچا کہ وزیراعظم مولوی اےکے فضل الحق نے تاریخ قرارداد پیش کرنے کے بعد اِس کی حمایت میں تقریر بھی کی جِس میں انہوں نے بنگال سمبلی میں اپنی ایک تقریر کا حوالہ بھی دیا اور یہ ثابت کیا کہ فرزندانِ توحید کی آزادی کی صرف یہی ایک صورت ہے۔ چوہدری خلیق الزماں نے اس قرارداد کی تائید کی۔ اِن کی تائیدی تقریر کے بعد مولانا ظفر علی خان، سرحد اسمبلی میں حزبِ اختلاف کے لیڈر سردار اورنگزیب خان اور سر عبداللہ ہارون نے تقاریر کیں۔ کم و بیش پورے برِصغیر کی مسلمان قیادت نے اِس پلیٹ فارم سے قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت پر اعتماد کرتے ہوئے نئے عزم اور ولولے سے سفرِ آزادی شروع کرنے کا عہد کیا۔ اِس تاریخی جلسے اور قرارداد کو اس لیے بھی مقام حاصل ہےکہ یہ ایک اجتماعی سوچ کاشاخسانہ تھا۔ اجتماعی طور پر تمام مسلمان ایک قوت اور ایک تحریک کا روپ دھارے ہوئے تھے۔
باہمی اختلافات اور ایک دوسرے پر کیچڑ اُچھالنے کو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ قرارداد کی پیشی اور منظوری کے بعد مسلمان ایک نئے عزم اور حوصلے کے ساتھ ایک روشن صبح کی جانب اپنا سفر شروع کرنے جا رہے تھے جس کی سربراہی تاریخ کے عظیم ترین لیڈر قائداعظم محمد علی جناح کر رہے تھے۔ یہ قائداعظم محمد علی جناح کی سیاسی بصیرت و حالات کو دیکھتے ہوئے بہترین حکمت عمہ اور خدائے بزرگ و برتر کا فضل و کرم تھا جِس نے مسلمانوں کیلیئےبروقت ایک آزاد، خود مختار مملککت خداداد پاکستان قائم کرنے میں حقیقی کردار ادا کیا تھا۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم اپنی سیاسی مصلحتوں اور آپس کی ریشہ دوانیوں کو بھلا کر پھر سے متحد ہو جائں۔
آج اُناسی سال گزرنے کے بعد ایک بار پھر ہمیں اپنے اندر تئیس مارچ کا جذبہ بیدار کرنے کی ضرورت ہےاور تجدیدِ عہدِ وفا کرتے ہوئےے قرارداد پاکستان کے اغراض و مقاصد کی تکمیل اور قائداعظم اور دیگر قومی رہنماؤں کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کیلیے ہمیں پھر سے ایک قوم بننا ہو گا۔ دو قومی نظریہ جو موجودہ حالات میں دم توڑتا دِکھائی دے رہا ہے اسے بچانا ہو گا۔ دنیا کو دِکھانا ہو گا کہ ہم وہی قوم ہیں جِس نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر پاکستان کے قیام کے خواب کو پورا کیا۔ ہم وہی قوم ہیں جِس نے اپنے قائد کی رہنمائی میں دو قومی نظریے کو سچ ثابت کر کے دِکھا دیا تھا۔ ہمیں قرارداد پاکستان کی روشنی میں مملکت خداداد پاکستان کو پروان چڑھانے کیلیے انفرادی و اِجتماعی طور پر سر ڈاکٹر محمد علامہ اِقبال کا شاہین بننا ہو گا۔ خداتعالی پاکستان اور پاکستانی قوم کا حامی و ناصر ہو۔
پاکستان زندہ باد
- 1
- Saleem Raza thanked this post
- AuthorPosts
You must be logged in to reply to this topic.

