سوچنے کی بات ہے کہ مریم نواز بار بار حلقے کیوں بدل رہی ہیں۔پاکستان کے معروف اخبارات نے مریم کا حلقہ 125 سے اِنتخا ب میں حصہ لینے اور انتخابی نشان پینسل الاٹ ہو جانے کی خبر شائع کی لیکن اُس کے بعدبعض اخبارات می ں یہ خبر بھی لگی کہ مریم نواز حلقہ 127 سے انتخا ب لڑیں گی۔حلقہ 120 اور اُس کے بعد باری باری اب آکر کر نظرِ انتحاب حلقہ 127 پر آ کر ٹِک گئی ہے۔یہ تمام علاقعہ وہ ہے جہاں سے نواز شریف مسلسل اور پھر کلثوم نواز دونوں انتخاب جیتتے آئے ہیں۔ اِس علاقعے کو مریم کا آبائی اِنتخا بی علاقعہ کہا جاتا ہے۔ پھر کیا وجہ ہے یا وہ کون سی مجبوری ہے جو مریم کو کِسی ایک حلقے پر ٹِکنے نہیں دے رہی؟
اِس راز سے پردہ پاکستان میں ادب اور صحافت کی دنیا کے ایک مایہ ناز بزرگ تجزیہ نگارنے اپنی ویب سائٹ پر اُٹھایا ہے۔معلوم یہ ہوا کہ مریم کو اپنے ہی عزیزوں کی مخالفت کا سامنا ہے اور اپنے آبائی حلقے سے اِنتحاب لڑنا ایک ناخوشگوار تجربے میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ اندرونِ خاندان سے مزاحمت اب کافی شدید نوعیت اختیار کر چکی ہے۔ اِس صورتِ حال سے بچنے کے لیے ایک محفوظ حلقہ دیکھا گیاہے۔
یہ بھی یاد رہے کہ مزاحمتی رشتہ داروں کے علاوہ مریم کو تحریکِ انصاف کا سامنا بھی کرنا ہے۔